ذاکرخان جو کہ پہلےکانگریس پارٹی کے کارپوریشن کونسلر تھے، ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے عام آدمی پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔عام آدمی پارٹی نے انہیں اقلیتی کمیشن کا چیئرمین بنایا دیا تھا لیکن اب وہ شراب گھوٹالہ میں جیل میں بند منیش ششودیا کےخلاف تفتیشی ایجنسیوں کے گواہ بن گئے ہیں اور سی بی آئی کی درخواست پر انہیں
لیفٹیننٹ گورنر نے برطرف کر دیا ہے ۔دہلی اقلیتی کمیشن 2020 سے 2023 تک کے 3 سالوں کےدوران بدعنوانی کا مرکز بن گیا ہے۔جس کا بجٹ سال 2000 میں 2 کروڑ 90 لاکھ روپے تھا، اب اس کا بجٹ بڑھ کر 6 کروڑ ہو گیا ہے۔سال 2000 سے پہلے دہلی اقلیتی کمیشن جو بھی پروگرام کرتا تھا۔سماجی تنظیموں (این جی اوز) کے ذریعے کیا کرتا تھا، لیکن ذاکرخان نے کمیشن کی میٹنگ بلائے بغیر سسٹم میں تبدیلیاں کیں، اب کمیشن اپنے پروگرام براہ راست خود ہی کرتا ہے۔ایک پروگرام کے لئے کمیشن تقریباً 25000 روپے دیتا ہے۔
اور صرف ان ہی این جی اوز کو پروگرام دییے جاتے ہیں جن کے ساتھ کمیشن کی افسران یا چیئرمین کے ساتھ ذاتی تعلقات ہوتے ہیں مثال کے طور پر 2021-22۔ میں جو رپورٹ پیش کی گئی تھی اور 19 اگست کو سالانہ تقریب کے موقع پر جس کا اجراء کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق 122 غیر سرکاری تنظیموں نے (این جی اوز) کیمشن کے ساتھ رجسٹریشن کرا رکھا تھا جس کی فہرست اس میں موجود ہے۔
لیکن بیداری پروگرام میں انھوں نے صرف 10 این جی اوز کے ساتھ ہی کام کیا ہے۔
ہے۔یہی غیر سرکاری تنظیمیں 2022-23 میں بھی سرگرم رہی ہیں یعنی 122 تنظیمیں ہونے کے باوجود محض یہ 10تنظیمیں افسران اور چیرمین کی پسندیدہ بنی ہوئی تھیں۔یہ حیران کن ہے کہ کمیشن کی طرف سے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 3 سالوں میں صرف 267 شکایات درج ہوئی ہیں جن میں سے صرف 123 شکایات 46.06 فیصد شکایات کا ازالہ کیا گیا ہے۔ یعنی 18 کروڑ روپے خرچ کرنے کے بعد دلی کی اقلیتوں کی جس کی آبادی تقریباً 19 سے 22 فیصد ہے وہاں صرف 267 شکایات ہی موصول ہوئی ہیں۔ یہ ایک مزاق ہے۔
۔کمیشن کی حالت اتنی خراب ہے کہ اس نے گزشتہ 3 سالوں میں کوئی سالانہ رپورٹ شائع نہیں کی ہے۔
۔ دہلی حکومت کے محکمہ آڈٹ اور مالیاتی محکمے نے بھی اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔
اور دہلی حکومت نے جو سیکرٹریز کمیشن میں تعینات کیے ہوئے ہیں وہ کیا کرتے رہے ہیں؟ یعنی کمیشن اپنا کام کرے اس کی ذمہ داری کمیشن کے سیکرٹری اور ممبران کی ہے۔
ہے۔کمیشن کے افسران لوگوں کو کام کا پیسے نہیں دیتے، شاید کک بیک کا انتظار کرتے ہوں گے؟ ۔
20-2019 کی رپورٹ جو شائع ہوئی تھی اس کی رقم ابھی تک ادا نہیں کی گئی ہے۔ جس کا کورٹ میں کیس چل رہا ہے ۔
۔19 اگست 2023 کو دہلی کے ایم سی ڈی ہال میں جو پروگرام منعقد کیا گیا تھا اس میں 3 سالہ رپورٹ
کا ایک ساتھ اجرا کیا گیا تھا۔ جس کو کمیشن کے اراکین کی منظوری حاصل نہیں تھی۔ایساذرائع سے معلوم ہوا ہے۔ جو رپورٹ جاری کی گئی ہے اسے ابھی تک دہلی اقلیتی کمیشن کی ویب سائٹ پر نہیں ڈالا گیا ہے۔۔ اس رپورٹ میں ڈیٹا کو تبدیل کرکے ایک نئی رپورٹ تیار۔
ہو رہی ہے جس میں غلط اور جھوٹے ڈیٹا کو ڈالا جا رہا ہے۔اگر حکومت اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے تو حیران کن کرپشن اور بے ضابطگیاں سامنے آئیں گی۔
