جدوجہد آزادی مےں علما کا کردار نا قابل فراموش ہے :قاری شمیم
جامعہ خلفاءراشدین غازی آباد مےں الحاج بابا جی کا خطاب،سبھی مذاہب کے سرکردہ لوگوں نے قاری شمیم کے کاوشوں کو سراہا
غازی آباد پریس ریلیز 17اگست،سماج نیوز سروس:ملک کی آزادی کےلئے علماءکرام و مدارس دینےہ کی قابل تقلید قربانیاں رہی ہےں ۔آزادی کی تحریک مدارس ہی سے شروع ہوئی تھی ،لےکن آج ملک کی فرقہ پرست تنظےمےں ےہ باور کرانے کی کوسش کر رہی ہے کہ مدارس و اہل مدارس کا آزادی کی جنگ سے کوئی تعلق نہےں ہے ۔لےکن حقیقت ےہ ہے کہ اگر علما ءکرام اور مسلمان تحریک آزادی مےں شریک نہےں ہوتے تو ےہ ملک کبھی آزادی کا سورج نہےں دےکھتا ۔بزم شاہےن کے روح رواں الحاج بابا جی نے جامعہ خلفائے راشدین مےں ترنگا لہرانے کے بعد جشن آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ جامعہ خلفائے راشدین کے مہتمم قاری محمد شمیم نے بطور خاص طلباءکو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ اپنے ملک ،اپنے علمائے کرام اور مسلمانوں کی قربانیوںاور تاریخ کو یادر کھیں اور اس سے نصیحت حاصل کریں ،نیز دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کےلئے بھی خود کو تیار رکھیں ۔تقریب جشن آزادی مےں بحیثیت مہمان خصوصی شریک جناب پرنس محبوب رحمانی نے اپنے خطاب مےں کہا کہ ہمےں اپنے ملک کے آئےن کے بارے مےں جانکاری حاصل کرنے کی ضرورت ہے ،اس لئے کہ ہمارے ملک کی آئےن مےں ےہاں بسنے والے سبھی شہریوں کو ےکساں حقوق حاصل ہےں۔ملک کی تعمیر و ترقی مےں مسلمانوں کا بڑا اہم رول رہا ہے ۔آپ حضرات موجودہ حالات سے خوف زدہ اور مایوس نہ ہوں اور نہ ہی خود کو کمزور سمجھےں بلکہ اپنے اپنے علقہ مےں اسکول ،کالج اور اسپتال بھی کھولےں اور ملک کی ترقی مےں حصہ دار بنیں ۔مولانا واصف نفیس مظاہری صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعےتہ علما ضلع غازی آباد نے کہا کہ انگریزوں نے ہمارے ملک مےں تقریبا دو سو سال تک حکومت کی اور ہمارے ملک کے وسائل کو لوٹ کر خوب ترقی کی اور ملک کی معیشت کو تباہ و برباد کیا ۔اگر تاریخ دیکھےں تو پتہ چلتا ہے کہ آزادی کی تحریک سراج الدولہ نے شروع کی ،اسی طرح ٹیپو سلطان نے جس پامردی سے انگریزوں کا مقابلہ کیا وہ تاریخ کا زرین باب ہے۔پروگرام کا آغاز قرآن کریم کی تلاوت اور حمدو نعت سے ہوا ۔جامعہ کے طلبا کی مختلف جماعتوں نے اپنے اپنے طور پر رنگا رنگ کلچرل پروگرام پےش کرکے حاضرین سے دادو تحسین وصول کیا ۔اس موقع پر جملہ مہمانان کرام نے بطور خاص قاری محمد شمیم کی کردار سازی مےں ان کی کوسشوں کو سراہا اور دیگر ذمہ داران و اساتذہ کرام کو مبارکباد پےش کی۔تقریب کو کامیاب اور دلآویز بنانے مےں نمایاں کردار جامعہ کے ناظم قاری الطاف حسین کا رہا۔ ان کے ساتھ قاری عبدالرحمان ،قاری سجاد انور صدر مدرس ،قاری سعود عالم ،قاری حفاظ الدین ،قاری رفیق ،قاری محمد اشرف ،قاری مصطفی ،قاری عبدالقادر،حافظ محمد زبیر ،حافظ محمد امان ،حافظ محمد ارمان وغیرہم کے نام قابل ذکر ہےں ۔
