دہلی کانگریس صدر انیل چودھری کی میعاد پوری ہو چکی ،دہل کانگریس کو جلد نیا صدر مل

دہلی کانگریس کا نیا سربراہ کون ہوگا؟
صدر انیل چودھری کی میعاد پوری ہو چکی ،دہلی کانگریس کو جلد نیا صدر مل جائے گا
منہاج احمد



نئی دہلی 17اگست،سماج نیوز سروس: دہلی میں کانگریس جلد ہی نئے صدر کے نام کا اعلان کر سکتی ہے۔ گزشتہ بدھ کو کانگریس نے تنظیم کی مضبوطی اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے میٹنگ کی۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی اعلیٰ لیڈروں سے ملاقات کر رہے ہیں اور نئے صدر کی تلاش میں ہیں۔ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق دہلی کانگریس کو نیا صدر ملے گا۔ کیونکہ صدر انیل چودھری کی میعاد پوری ہو چکی ہے۔ کل شام راہل گاندھی نے دہلی کانگریس کے تقریباً 10 لیڈروں سے الگ الگ ملاقات کی اور ان سب کے نام پوچھے۔ اس وقت دیویندر یادو کا نام ریس میں سب سے آگے چل رہا ہے۔ جبکہ اروندر سنگھ لولی اور روہت چودھری سمیت پرانے اور تجربہ کار سابق وزیر ہارون یوسف بھی دوڑ میں شامل ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ کانگریس اگلے دو تین دنوں میں نام کا اعلان کر سکتی ہے۔راہل گاندھی نے دہلی پردیش کانگریس لیڈروں کی میٹنگ میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پارٹی میں صرف کام کرنے والے ہی رہیں گے اور انہیں ہی ذمہ داری ملے گی۔ انہوں نے کام نہ کرنے والے لیڈروں کو آرام کرنے کا مشورہ دیا، چاہے وہ کتنے ہی سینئر کیوں نہ ہوں اور کتنے ہی الیکشن جیتے ہوں۔ بدھ کو کانگریس ہائی کمان کے ساتھ میٹنگ میں ریاستی صدر انل کمار نے شکایت کی کہ یہاں آنے والے زیادہ تر لیڈر نہ تو ریاستی میٹنگ میں شریک ہوتے ہیں اور نہ ہی احتجاج میں حصہ لیتے ہیں۔ریاستی کانگریس کے سبھی سینئر لیڈر اس پر خاموش رہے۔ شکایت کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے راہل نے بالواسطہ طور پر سینئر لیڈروں کی سرزنش کی۔ راہل نے خبردار کیا کہ اگر آپ کام کرنا چاہتے ہیں تو پارٹی میں رہیں، اگر آپ کام نہیں کرسکتے تو آرام کریں۔ اب موجودہ سرگرمیوں اور کام کو دیکھ کر ہی پارٹی میں ذمہ داری دی جائے گی۔ اس لیے پارٹی کو محنت کش لیڈروں اور کارکنوں کی ضرورت ہے۔دریں اثنا، دو تین رہنماو¿ں نے ریاستی یونٹ میں گروپ بندی کو دور کرنے پر زور دیا۔ اس پر راہل نے کہا کہ خیمہ بندی کو دور کرنے کے لیے باہر سے کوئی نہیں آئے گا۔ اجلاس میں موجود تمام رہنماو¿ں میں گروپ بندی ہے۔ اس لیے انہیں خود ہی گروپ بندی کو دور کرنا ہوگا۔ وہ پارٹی اجلاسوں میں شرکت کرےں اور پروگراموں میں شرکت کرے۔

Post a Comment

SEEMANCHAL EXPRESS

Previous Post Next Post