دہلی کے صحافی کا منہاج کے تءیں نیک خواہشات

سیمانچل ایکسپریس میڈیا نیٹ ورک جمعہ 5 فروری 2021 نئی دہلی منہاج قاسمی :’زمین والے بہت ناز جس پہ کرتے ہیں‘ مولانا منہاج صاحب جن کو عام طور پر منہاج قاسمی کے نام سے پکارا جاتا ہے ،ایک ایسی پہلو دار اور کثیر الجہات شخصیت ہیں جن کی مثال بہت مشکل سے ملے گی۔وہ شہرت اور عظمت کے جس مقام پر ہیں اول تا وہاں تک جانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے ،اگر قسمت سے یہ مقام حاصل بھی کرلے تو زمین سے اپنے سارے رشتے ختم کرلیتا ہے۔شہرت و عظمت اور عزت و مرتبے والے عام طور پر اپنے رشتے داروں ،تعلق والوں ،دوستوں،ساتھیوں اور روز مرہ کے ملنے جلنے والوں سے ہی قطع تعلق نہیں کرتے بلکہ اپنی تہذیب ،اپنا کلچر،اپنا تمدن ،اپنی ثقافت اور اپنا مذہب تک بھول جاتے ہیں ۔منہاج قاسمی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے جیسے جیسے شہرت و عظمت کے بلند مقام کو حاصل کیا ویسے ویسے وہ احکام شریعت اور اپنے دین و مذہب پر مزید مضبوط ہوتے چلے گئے۔دوستوں،ساتھیوں،ملنے والوں ،رشتے داروں اور اپنے آس پاس والوں کے لئے ان کے دل میں مزید محبت کے جذبات پیدا ہوئے ،وہ ان کے لئے خیر کا چشمہ بنے۔یہ وہ خوبی ہے جو ان کے نیک ،شرف اور رحم دل انسان ہونے کا ثبوت ہے۔میں ان کے ساتھ ایک طویل عرصے سے کام کرتا رہاہوں ۔ میں نے ان کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ان کی محنت،خدمت خلق،انسان دوستی،صلہ رحمی اور قوم کے لئے رات دن محنت کرتے دیکھا ہے۔میں نے اکثر دیکھا ہے کہ وہ رات بھر مختلف اسپتالوں میں مریضوں کی تےمارداری کرتے ہیں اور صبح اٹھ کر پھر اپنے اسی کام میں مصروف ہوجاتے ہیں۔وہ انجان مریضوں کے لئے ڈاکٹروں سے لڑتے جھگڑتے ہیں،غریب لوگوں کے لئے کھانے پینے اور کپڑوں کا انتظام کرتے ہیں۔اس کام کے میں نے کبھی ان کو کسی سے چندہ لیتے نہیں دیکھا وہ جو کچھ کرتے ہیں اپنی جیب خاص سے کرتے ہیں۔میں نے یہ بھی دیکھا ہے ان کو مہینے بھر کی محنت کے بعد آفس سے تنخواہ ملی ،کسی ساتھی،دوست یا انجان سے آدمی کو پریشان دیکھا اور ساری تنخواہ خاموشی سے اس کی جیب میں ڈال دی۔یہ کام کس قدر مشکل ہے اس کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جن کو کبھی ایسا کرنے کا اتفاق ہوا ہو۔آج کے دور میں جب ایک ایک روپیئے کے لئے سگے بھائی بہن اپنے رشتوں کو پھونک ڈالتے ہیں،دو دو روپئے میں تعلق ختم ہوجاتے ہیں ،معمولی رقوم کے لئے لوگ ایک دوسرے کی جان لینے تک آمادہ ہوجاتے ہیں ،اس دور میں کوئی شخص اگر اپنے مہینے بھر کی کمائی کو مفت میں تقسیم کردے تو لوگ اسے ےا تو پاگل کہیں گے یا دیوانہ۔لیکن منہاج قاسمی یہ پاگل پن اکثر کرتا رہتا ہے۔وہ ایک سینئر صحافی ہیں ۔عام طور پر لوگ اس پیشے کو اس لئے اپناتے ہیں کہ ےا اپنے دونمبر کے کاروبار کو جاری رکھ سکیں سرکاری عہدے داروں،وزیروں،افسروں یا نچلے درجے کے ملازموں سے تعلقات بڑھاکر خوب دلالی کریں۔لیکن منہاج قاسمی نے کبھی صحافت کو اپنے کھانے کمانے ،تجارت بڑھانے،دلالی کرنے یا بلیک میل کرکے دولت کا انبار لگانے کے لئے نہیں بلکہ قوم و ملت کے ہر دکھ سکھ میں ساتھ رہنے کے لئے اپناےا ہے۔وہ ایک سند ےافتہ اور سرکار سے تسلیم شدہ صحافی ہیں ۔انہوں نے کبھی اپنی صحافت کو ذاتی مفاد کے لئے استعمال نہیں کیا۔عموماًسرکاری فائدوں سے وہ دوسروں کا ہی بھلا کرتے دیکھے گئے ہیں ۔پریس کلب کے ایک پرانے ممبر کے طور پر انہوں نے ہمیشہ ایسے صحافیوں کے لئے صدا بلند کی جن کی حیثیت دہاڑی مزدوروں جیسی ہے۔میراخیال ہے کہ منہاج قاسمی جیسا اعلیٰ رسوخ رکھنے والا اگر سیاست کے میدان میں آئے گا تو وہ عوام کے لئے بے حد بھلا اور فائدے مند ثابت ہوگا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے آبائی علاقے میں عوام کی فلاح و بہبود کے لئے سیاسی سماجی اور ملی خدمت کرنے کے کوشاں ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر عوام نے ان کا ساتھ دیا تو منہاج قاسمی اپنے علاقے والوں کے لئے ایسے کارنامے انجام دیں گے کہ تاریخ ان کو یاد رکھے گی۔میری دعاہے کہ اللہ علاقے کے عوام کے حق میں منہاج قاسمی کو منتخب کرے اور منہاج قاسمی اپنی مٹی کا جی کھول کر قرض ادا کرنے میں کامیاب ہوں آمین۔ ارشد ندیم اسکالر سب ایڈیٹر سیاسی تقدیر

Post a Comment

SEEMANCHAL EXPRESS

Previous Post Next Post