ہندو راو¿ اسپتال میں آپسی جھگڑے کے بعد ریزیڈنٹ ڈاکٹرز اور عملہ ہڑتال پر، مریضوں کو پریشانیوں کا سامنا
آج سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو پریشانی کا سامنا ہے
منہاج احمد
نئی دہلی 22اگست،سماج نیوزسروس: دہلی میونسپل کارپوریشن کے سب سے بڑے اسپتال ہندو راو¿ میں ریزیڈنٹ ڈاکٹر اور گروپ سی، ڈی کے ملازمین آمنے سامنے ہیں۔ ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہوئے ریذیڈنٹ ڈاکٹرز اور ملازمین نے آج سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ ریزیڈنٹ ڈاکٹر اور عملے کی باہمی لڑائی کے باعث مریضوں کو علاج کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ بھٹکنا پڑتا ہے۔16 اگست کو ہندو راو¿ اسپتال میں ڈاکٹروں اور عملے کے درمیان ہاتھا پائی کی خبر منظر عام پر آئی تھی۔ ملازمین کا الزام ہے کہ مریض ڈاکٹر سے ملنے آیا تھا لیکن ڈاکٹر نے اسے نہیں دیکھا جس کے بعد ڈاکٹر اور عملے میں ہاتھا پائی ہو گئی۔ جب اسپتال انتظامیہ کو اس سارے معاملے کا علم ہوا تو انہوں نے ملازم کا تبادلہ کر دیا۔اب ملازمین نے ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے من مانی کرتے ہوئے یک طرفہ فیصلہ کرتے ہوئے ملازم کا تبادلہ کر دیا۔ اسی وجہ سے ہم نے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔دوسری جانب ریذیڈنٹ ڈاکٹروں کا الزام ہے کہ اس واقعے کے بعد وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد اسپتال کے ملازم کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ ریزیڈنٹ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ دباو¿ کے باعث اسپتال انتظامیہ نے ان کا تبادلہ فی الحال روک دیا ہے، ایسے ملازمین کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کرکے ان کا تبادلہ کیا جائے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا ان کا مظاہرہ جاری رہے گا۔ ریزیڈنٹ ڈاکٹروں اور عملے کے درمیان جھگڑے کا سب سے زیادہ اثر مریضوں پر نظر آئے گا۔ دونوں نے اپنے مطالبات کے حوالے سے ہڑتال کا اعلان کیا ہے، ایسی صورتحال میں اب مریضوں کو علاج کے لیے جگہ جگہ بھٹکنا پڑے گا۔
۔
