عنوان: غربت یا جہالت____ فیصلہ آپ کا

آج میں ایک سوشل ایشو پر ایک منفرد انداز میں تبصرہ کرنا چاہوں گا صرف اس امید پر کہ 
'شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات'

ہندوستان  میں جب بھی کوئی تہوار آتا ہے تو غربت کی لائن سے بہت نیچے بسنے والے لوگوں کی طرف سے دل خراش قسم کی خبریں آنا شروع ہو جاتی ہیں جن کا ذمہ دار حکومت کے بعد امراء یا مسلم تنظیموں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔

جیسے کہ حال میں ہی ایک واقعہ پیش آیا ہے جس میں عید کے کپڑے لینے کے قابل نہ ہونے پر ایک  پریشان حال انسان نے اپنے  بچوں کو ابدی نیند سلا دیا۔

کیا ہمارے پیارے نبی ؐ نے دو جہانوں کے سردار ہونے کے باوجود اتنی سادہ زندگی اس لیے نہیں گزاری تھی کہ جب امت پر تنگدستی آئے تو وہ اسوحسنہ کی پیروی کرتے ہوئے حالات کا مقابلہ کر سکیں؟ 

جنت کی عورتوں کی سردار حضرت فاطمہ ؓ  نے ساری زندگی چند پیوند لگائے کپڑوں میں گزار دی اور جنت کے شہزادوں حضرت حسن اور حسین کو بھی سادہ لباس پہنایا کیا غریب کی بیوی اور بچے اُس گھرانے کو مشعل راہ نہیں بنا سکتے؟

کیا اہل بیت نے اتنی مشکل زندگی اسی امت کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کیلئے نہیں گزاری تھی؟
جو آج آسائشات کے پیچھے بھاگتے ہوئے اس قدر مایوس ہوئے کے اپنی ہی اولاد کی جان کے دشمن بن گئے۔

جب سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو عوام کی طرف سے عموماً یہی  جواب آتا ہے کہ حکومت نے حالات ہی ایسے بنا دیے تھے اور پھر کسی امیر آدمی یا مسلم تنظیموں نے ان مشکل حالات میں اس کی مدد نہیں کی تو وہ اور کیا کرتا؟ 
کیوں بھئی وہ اور کچھ کیوں نہ کرتا؟
کیا دین میں  کسی بھی صورت میں خودکشی اور اولاد کا قتل جائز ہے؟
اس سے بہتر یہ نہیں تھا کہ وہ صبر کرتا اور اپنے بچوں کو بھی صبر کی تلقین کرتا؟ 
اللہ کے رازق ہونے پر یقین رکھتا؟
کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ ہر انسان کی قسمت میں رزق لکھ دیا گیا ہے جو محنت اور کوشش کے بعد اس کو مل کر رہے گا؟ 
اگر نہیں جانتا تھا تو اہل علم نے اسے یہ بات کیوں نہ بتائی؟ 
تو کیا پھر قصور وار صرف امراء ہوئے؟ 
نہیں پھر تو ہر عالم مبلغ اور ہر استاد قصور وار ہوا جس نے اسے غربت کے ساتھ ساتھ جہالت میں بھی ڈوبا رہنے دیا کیونکہ میرے نزدیک مرنے والے یا قتل کرنے والے کا اصل مسئلہ غربت نہیں جہالت تھا جو اسے لے ڈوبا 
امراء کو صدقہ خیرات کا درس دینے والے غریب کو کیوں نہیں بتاتے کے قتل اور خودکشی حرام ہے؟ 
امیر پر زکوٰة فرض ہے تو غریب پر صبر کرنا فرض نہیں ہے؟ 
الله کے نبیؐ اور صحابہ اکرام ؓ بہت سخی اور فیاض تھے  تو کیا وہ فاقہ کش نہیں تھے؟
کیا ان کے بچے بھوکے نہیں سوتے تھے؟ 
کیا کبھی کسی صحابی نے فاقہ کشی کے ڈر سے اولاد کا قتل کیا؟ 

امیروں کو سخی ہونے کی تعلیم دینے کیساتھ ساتھ اگر غریبوں کو بھی صبر قناعت استقامت اور الله پر بھروسہ رکھنے کا سبق پڑھایا جائے تو بہتر ہو گا۔
کب تک غریب امیر کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتا رہے گا؟
کب تک غریب کسی مسیحا کے آنے کے انتظار میں بیٹھا رہے گا اور مایوس ہونے پر اپنی اور اپنے بچوں کی جان لیتا رہے گا؟

میں بارہا کہوں گا کہ ہمارا مسلہ غربت نہیں ہے بلکہ ہمارا اصل مسئلہ جہالت اور دینی تعلیمات سے دوری  ہے جس کا علاج صدقہ خیرات نہیں بلکہ  تعلیم دینا ہے۔ 
جو میری بات سے اتفاق نہیں کرتا وہ صرف اتنا بتا دے کے کیا کبھی انہوں نے کسی مولوی یا نمازی پرہیزگار کو بچوں سمیت خود کشی کرتے دیکھا ہے؟  یقیناً نہیں ایسے اقدام صرف وہی اٹھاتے ہیں جو غربت کے ساتھ ساتھ جہالت کا بھی شکار ہوتے ہیں۔
کیا ہی اچھا ہوتا اگر غریب باشعور بھی ہوتا تو ایسے قدم کبھی نہ اٹھاتا۔
کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کے پاس تمام ضروریات زندگی موجود ہیں لیکن وہ خود ترسی اور احساس کمتری کا شکار ہیں۔افسوس کہ کھجور کی چھال سے بنے بچھونے پر سونے والے نبی کی امت آج آسائشات نہ ہونے پر سمجھتی ہے کہ اس سے زیادہ تنگدست کوئی نہیں ہے۔۔
امیروں کو شرم دلانے اور ان کی آنکھیں کھلوانے کا سلسلہ تو  جاری ہے لیکن اس ملک کے غریبوں سے اپیل ہے کہ امیروں کے جاگنے تک خود جہالت کی بھینٹ چڑھ کر ابدی نیند نہ سو جائیں اللہ پر امید رکھیں اور نبی ؑ کی اسوہ کو مشعل راہ بنائیں خودکشی سے بہتر حل نظر آنے لگ جائیں گے ۔
عنوان: غربت یا جہالت____ فیصلہ آپ کا۔

Post a Comment

SEEMANCHAL EXPRESS

Previous Post Next Post