دہلی وقف بورڈ کے اماموں کو پچھلے 14مہینے سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں

7 جولائی بروز جمعہ

دہلی وقف بورڈ کے اماموں کو پچھلے 14 مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں اورانکا کوئی پرسان حال نہیں
جسکی وجہ سے بے شمار پریشانیاں سامنے آرہی ہیں
 بہت سی مساجد ایسی ہیں جہاں پر اماموں کی وجہ سے مساجد آباد تو ہیں الحمد للہ مگر وہاں پرمسلمانوں کی آبادی زیرو ہے
وہاں پر یا تو راہگیر نماز ادا کرتے ہیں یا وہ لوگ جو آس پاس میں ملازمت یا دیھاڑی مزدوری کا کام کرتے ہیں
 وہاں امام ومؤذن کے کھانے تک کا انتظام نہیں ہے 
باقی روز مرہ کے اخراجات تو بہت دور کی بات

پہلے کے  مسلمان یعنی پچاس سو سال پہلے اپنی جائدادیں مدرسوں و مسجدوں کے نام وقف کردیا کرتے تھے
  اسکی ایک کمیٹی ہوا کرتی تھی جسکا نام سنی اوقاف کمیٹی تھا بعد میں اسکو وقف بورڈ کا نام دے دیا گیا تھا

 وجہ صاف تھی کہ اس سے مسجد و مدرسوں کے خرچ کا نظامو انصرام آسانی کے ساتھ چلایا جاسکے گا

1954 میں مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی بجنوری رحمتہ اللہ کی جدوجہد سے  گورنمنٹ نے باضابطہ طور پر وقف ایکٹ (قانون) بنادیا تھا تاکہ وقف کی مسجدوں مدرسوں قبرستانوں و اسکے آس پاس کی زمینوں (دوکان مکان) کا تحفظ کیا جاسکے
بہر حال آج جہاں پر بھی دہلی میں وقف کی زمینیں باقی ہیں وہ ان مساجد کے آس پاس ہیں جو مساجد آباد ہیں اور انکو آباد کرنے والے یہ وقف بورڈ کے امام ہی ہیں 
وہیں سے تھوڑا بہت کرایہ آجاتا ہے نہیں تو سب جگہوں پر قبضے ہوچکے ہیں اور ان قبضوں کو چھڑانا شیر کے منھ میں سے بکری کو زندہ بچانے سے بھی زیادہ مشکل کام ہے

مگر ہاں اگر سارے مسلمان وقف کے معاملوں میں ایک ہوجائیں چاہے وہ کسی بھی سیاسی پارٹی کے ماننے والے ہوں  تو شاید یہ کام آسان ہوسکتا ہے

مگر چودھری شریف جیسے لوگ بھی تو سماج میں موجود ہیں جو اچھے خاصے کام کو ہوتے ہوتے رکوانے میں زیادہ دل چسپی رکھتے ہیں

جب جب اماموں کی تنخواہیں رکی ہیں وہ میں ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں کہ چودھری شریف کی اناء اور انکی طرف سے بے جا شکایتوں کی بناء پر رکی ہیں 
فروری 2022 میں چودھری شریف صاحب نے چئیرمین امانت اللہ خان کے خلاف شکایت ایل جی صاحب کے یہاں دی تھی کہ امانت اللہ خان صاحب نے وقف بورڈ میں مزید ملازمین کو رکھ لیا ہے پرائیویٹ اماموں کو وظیفہ دینا شروع کردیا ہے وغیرہ جو کہ غلط ہے اسکی انکوائیری کرائی جائے بہر حال انکوائیری ہوئی جو ابھی تک چل رہی ہے جسکی وجہ سے کوئی بھی افسر گرانٹ کی فائیل پر دستخط کرنے کو تیار نہیں جس دن افسروں نے دستخط کردئے اسی دن گرانٹ کی رقم بورڈ کے اکاؤنٹ میں آجائیگی
مطلب کوئی شخص کسی کو روزگار فراہم کرائے اور اسکی روزی روٹی کا نظام چل سکے گویا کہ یہ بری بات ہے
مگر چودھری شریف کو کون سمجھائے جنہوں پورے نظام کو شکایت در شکایت سے درہم برہم کیا ہوا ہے
میری دہلی کے تمام سیاسی لیڈران سے دست بستہ گزارش ہے کہ اوقاف کے معاملوں میں ایک ہوجائیں 
اور جو امام ان مساجد کی نگرانی کررہے ہیں مساجد کو آباد کئے ہوئے ہیں جنکے نام سے وقف کی زمیں وابستہ ہیں اور محفوظ ہیں

جیسے نریلا ، مہرولی ، قرول باغ ، کشمیری گیٹ ، فتحپوری ، نئی دہلی وغیرہ 
ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں سب لگے ہیں مگر ان اماموں کی تنخواہیں مل جائیں اس طرف کسی کا خیال نہیں 

دہلی کےتمام پانچوں ودھایکوں سے میری درخواست ہیکہ سب ایک زبان ہوکر اماموں کو تنخواہیں دلوائیں 
آپ سیاسی نمائندیں ہیں اور عوام کے ووٹوں سے آپ برسراقتدار ہیں آپکا فرض بنتا ہے جنتا کے کام کرانا
اگر ہم آج بھی ایک نہیں ہوئے تو ہمارے بزرگوں کی طرف سے وقف کی ہوئی تمام زمینیں برباد ہوجائیں گی
اور اللہ نہ کرے کہیں ایسا نہ ہوکہ آج سے پچاس سال بعد کےمسلمان تاریخ میں پڑھیں  کہ وقف بورڈ بھی ایک سرکاری ادارہ ہوا کرتا تھا جو مسلمانوں کی فلاح بہبود کیلئے کام کیا کرتا تھا 

مولانا محمد عارف قاسمی
چئیرمین 
آل انڈیا امام فاؤنڈیشن

Post a Comment

SEEMANCHAL EXPRESS

Previous Post Next Post